Press Release

April 20, 2022

FBR Launches Inland Revenue Strategic Reform Plan (2021-25)

Achieving yet another important milestone, FBR has launched Inland Revenue Strategic Reform Plan(2021-25) on April 20, 2022(Wednesday) in a simple ceremony held in Islamabad. The launching ceremony was chaired by Chairman FBR, Dr. Muhammad Ashfaq Ahmed. The event was also attended by key officials of international donors including the World Bank, FCDO, IMF, Asian Development Bank, and senior leadership of FBR.
While addressing the occasion,  Chairman FBR remarked that the IR Strategic Reform Plan 2021-25 encapsulated FBR’s vision for the future. The country’s premier revenue collection organization aspires towards building a stronger and more modern institution, driven by the principles of integrity, efficiency, and effective service delivery, he added. He reiterated that the plan envisaged the transformation of Inland Revenue into a world-class, technologically-savvy, and taxpayer-centric service. He thanked all the development partners for their much-needed support in developing this valued document and assured them of his fullest cooperation in implementing the same.
It is pertinent to mention that the Inland Revenue Strategic Reform Plan clearly sets the reform agenda for the four-year period from 2021-22 through to 2024-25. The plan provides reform actions to improve tax administration in the 4 strategic reform areas which include improving tax compliance,  strengthening tax administration, building institutional capacity, and reinforcing the legislative framework.
Furthermore, the Inland Revenue plans to address the challenge of low tax compliance through implementing a compliance risk management capability; improving registration, filing, payment, and reporting compliance; reducing the cost of compliance, strengthening the audit capability, streamlining processes, and procedures. Needless to add that greater use of automation for better service delivery and a data-centric approach is a key reform area. Leveraging existing data holdings and developing further data sources will allow the FBR to better identify compliance risks and allow the FBR to direct our resources to areas of highest risk.
Inland Revenue also endeavors to improve the skill set of its workforce and simplify and standardize the IR procedures by providing a common tax code. The IR Strategic Plan will be reviewed on an annual basis to ensure the program is still a sustainable and viable reforms strategy. The envisaged reforms have the potential to structurally improve the performance of the tax system and make a significant contribution to revenue mobilization.
یف بی آر کی جانب سے ان لینڈ ریونیو اسٹرٹیجک ریفارمز پلان برائے سال 2021تا 2025کا آغاز
ایف بی آر نے ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے بدھ کے روز 20 اپریل کو اپنے ان لینڈ ریونیو اسٹرٹیجک پلان برائے سال 2021تا 2025 کا آغاز کردیا ہے۔ اس موقع پر ایک سادہ مگر پروقار افتتاحی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی چیئرمین ایف بی آر جناب ڈاکٹر محمد اشفاق احمد تھے۔ اس تقریب میں عالمی مالیاتی اداروں بشمول عالمی بنک، دولت مشترکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی آفس (ایف سی ڈی او) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) ایشیائی ترقیاتی بنک (اے ڈی بی) کے نمائندگان کے ساتھ ساتھ ایف بی آر کی سینئر قیادت بھی شریک تھی۔
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ ان لینڈ ریونیواسٹرٹیجک ریفارمز پلان برائے سال 2021-25 ایف بی آر کے مستقبل کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے۔ ایف بی آر ملکی محصولات کے لئے بنیادی ذمہ دار ادارہ ہے۔ اس لئے ہماری کوشش ہے کہ یہ ایک ایسا جدید اور مضبوط ادارہ بنے جو دیانتداری، کارکردگی اور مؤثر خدمات جیسے اصولوں کی روشنی میں آگے بڑھ رہا ہو۔  انہوں نے اس امر پہ زور دیا کہ اس پلان کا مقصد ان لینڈ ریونیو کو عالمی معیار کی ایک ایسی سروس بنانا ہے جو جدید تکنیکوں کی حامل ہو اور اس کا مقصد ٹیکس صارفین کی خدمت ہو۔ انہوں نے اس موقع پر تمام ترقیاتی  شراکت داروں کی ضروری معاونت کا شکریہ ادا کیا جس کے سبب یہ اہم دستاویز تیار ہوئی اور انہوں نے اس موقع پریہ یقین دلایا کہ وہ اس پلان پر عملدرآمد کے لئے مکمل تعاون کریں گے۔
 یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان لینڈ ریونیو اسٹریٹجک ریفارم پلان واضح طور پر 2021-22 سے 2024-25 تک، چار سالہ مدت کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے کا تعین کرتا ہے۔ یہ پلان چاراسٹریٹجک اصلاحاتی شعبوں میں ٹیکس کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات فراہم کرتا ہے۔ اس پلان کے تحت ملک میں ٹیکس ادائیگی کے کلچر کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ  ٹیکس انتظامیہ کو فعال بنانے، ادارے کی سطح پر صلاحیتوں میں اضافہ کرنےاور قانون سازی کے فریم ورک کو تقویت دینے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
مزید برآں، ان لینڈ ریونیو کا منصوبہ ہے کہ کمپلائنس رسک مینجمنٹ کی صلاحیت کو نافذ کرکے ملک میں ٹیکس کی کم ادائیگی کے چیلنج سے نمٹا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ رجسٹریشن کے عمل میں مزید بہتری لاتے ہوئے فائلنگ، ادائیگی اور ٹیکس تعمیل کی اطلاع کو آسان بنایا جائے۔ اس منصوبے کے تحت ٹیکس ادائیگی کی قیمت میں کمی، آڈٹ کی صلاحیت میں اضافہ اور ان سارے مراحل کو آسان اورہموار بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
یہ امر واضح ہے کہ خدمات کی بہتر فراہمی اور ڈیٹا پر مرتکز حکمت عملی کے لئے خودکار عمل کا زیادہ استعمال اصلاحاتی عمل کا اہم شعبہ ہے۔موجودہ ڈیٹا ہولڈنگز سے استفادہ کرتے ہوئے ڈیٹا کے مزید ذرائع تیار کرنے سے ایف بی آر کوٹیکس تعمیل کی راہ میں حائل خطرات کی بہتر شناخت میں مدد ملے گی اور ایف بی آر کے لئے یہ آسان ہوگا کہ وہ ہائی رسک ایریاز میں اپنے وسائل استعمال کرسکے۔
ان لینڈ ریونیو کی یہ کوشش بھی کررہا ہے کہ اپنی افرادی قوت کی مہارت کو بہتر بنائے اور ایک مشترکہ ٹیکس کوڈ فراہم کرکے ان لینڈ ریونیو کے طریقہ کار کوآسان اور معیاری بنا سکے۔ ان لینڈ ریونیو اسٹرٹیجک پلان کی نظرثانی سالانہ بنیادوں پرہوگی اس امر کو یقینی بنانے کے لئے کہ یہ منصوبہ پائیدار ہے اور اصلاحاتی حکمت عملی کے لئے موزوں ہے، ان لینڈ ریونیو اسٹرٹیجک پلان کا سالانہ جائزہ لیا جائے گا۔ مجوزہ اصلاحات ٹیکس نظام کی کارکردگی کی ساخت کو بہتر بنانے اور ریونیو کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
Asad Tahir Jappa
Chief PR/Director Media

April 15, 2022

Continuing with the monthly computer ballot for its innovative POS Prize Scheme, the Federal Board of Revenue successfully organized the fourth successive lucky draw at FBR Headquarters Islamabad, this afternoon. In addition to 1007 lucky winners winning prizes worth 53 Million, another 10 individuals won prizes of Rs.100,000 each, sponsored by Metro Stores Pakistan for its valued customers. This has taken the winners list to 1017, winning prizes worth Rs.54 Million.
Addressing on the occasion, Chairman FBR/ Secretary Revenue Division, Dr. Muhammad Ashfaq Ahmed reiterated that for the past few years, FBR had been vigorously pursuing its drive for digitization, transparency, and automation not only to document the economy but also to plug revenue leakages through a transparent tax system. He further emphasized that FBR will continue to maximize tax compliance through various innovative initiatives including POS Invoicing Prize Scheme. The annual business turnover of the retail sector in Pakistan was about Rs. 20 Trillion but only around 20% was visible to FBR for tax compliance. This innovative Prize Scheme was launched to digitally monitor the sales made by Tier-1 Retailers across Pakistan to ensure that tax collected from customers was safely deposited into the state exchequer, he concluded.
It is pertinent to mention that in March 4,10,000 invoices were verified while in February 2022 about 2,60,833 invoices were verified by customers who shopped from outlets integrated with FBR POS System. Likewise, over 48.1 Million invoices were issued in March against  38 Million invoices issued in February 2022 by Tier-1 Retailers which are integrated with FBR POS System. The number of customers has also jumped from 39,000 in February to over 48000 in March who successfully verified their invoices. This is a phenomenal increase in public participation and is likely to further grow with every passing day.
Furthermore, FBR  has already distributed prizes worth Rs.160 million among 3031 lucky winners in three computerized ballots held in a transparent manner on the 15th of January, February & March, 2022. More than half of the fortunate winners have already got the prize money transferred into their bank accounts. It is also worth sharing that people are showing a lot of interest in becoming part of this computerized draw, which is being regularly held on the 15th of every month in the presence of mainstream national media.
 It is quite reassuring to share that out of around 4200 identified as Tier-1 Retailers, over 3600 have already integrated their business operations with FBR’s POS System. Their 17000 outlets with over 19500 cash counters are fully integrated with POS System.
15 اپریل 2022
ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں پی او ایس انعامی اسکیم کی چوتھی کپمیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کا کامیابی سے انعقاد
ایف بی آر کی منفرد  پی او ایس انعامی اسکیم کے سلسلے کی چوتھی مسلسل ماہانہ کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کی تقریب جمعے کی  سہ پہر ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں روایتی جوش و خروش سے  سجائی گئی۔  اس تقریب میں ایف بی آر کی پی او ایس اسکیم میں انعامات جیتنے والے  خوش نصیبوں ، جن کی تعداد 1007 تھی، میں 53 ملین روپے کے انعامات تقسیم کئے گئے۔  جبکہ میٹرو  اسٹورز پاکستان  کی جانب سے بھی 1 ملین روپے کے انعامات اپنے 10 صارفین  میں تقسیم کئے گئے ۔ یوں اس سلسلے کی کل انعامی رقم 54 ملین روپے جبکہ انعامات جیتنے والے خوش نصیب صارفین کی تعداد 1017 ہوگئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی چیئرمین ایف بی آر و سیکرٹری ریونیو ڈویژن ڈاکٹر محمد اشفاق نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ گزشتہ چند سالوں سے ایف بی آر کا ادارہ محصولات اکٹھا کرنے کے لئے شفاف ، ڈیجیٹل اور خودکار طریقہ کار نافذ کرنے کے لئے کوشاں ہےجس کا مقصد نہ صرف معیشت  کو ڈیجیٹل دستاویزی شکل دینا ہے بلکہ ملکی خزانے کے ضیاع کو بھی ٹیکس کے شفاف نظام کے ذریعے  روکنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر ملک میں ٹیکس کلچر عام کرنے کے لئے اور ملکی ٹیکس نظام پر صارفین کا اعتماد بڑھانے کے لئے پی او ایس انوائسنگ پرائز سکیم  جیسی مزید منفرد اسکیمیں تیار کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سالانہ بنیادوں پر 20 کھرب روپے کا کاروبار ہوتا ہے لیکن ایف بی آر کے پاس ٹیکس وصولی کے لئے  اس کاروباری لین دین کا محض 20 فیصد ریکارڈ پہنچتا ہے۔  انہوں نے بتایا کہ پی او ایس کی انعامی اسکیم لانے کا مقصد یہ تھا کہ ملک بھر میں  ٹیئر ون میں موجود کاروباری مراکز پہ ہونے والی سیل کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھا جائے اور صارفین کی شمولیت سے یہ یقینی بنایا جائے کہ ان سے وصول کیا جانے والا سیلز ٹیکس ملکی خزانے میں جمع ہورہا ہے۔
یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے۔ مارچ کے مہینے میں ان صارفین نے 4 لاکھ 10 ہزار سے زائدرسیدوں کی تصدیق  کی ، جنہوں نے ایف بی آر کے پی اوایس نظام سے مربوط ریٹیلرز سے خریداری کی تھی ،جبکہ فروری 2022 میں ایسی رسیدوں کی تعداد2 لاکھ 60 ہزار  8سو 33تھی۔ اسی طرح مارچ کے مہینے میں  ایف بی آر کے پی او ایس نظام کے ساتھ منسلک بڑے ریٹیلرز ،یعنی  ٹئیر –ون ریٹیلرزکی طرف سے مجموعی طور پر4کروڑ 81لاکھ سے زائدرسیدوں کا اجراء کیا گیا ہے، جن کی تعداد فروری میں 3  کروڑ 80 لاکھ تھی۔ ایسے صارفین کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو تصدیق شدہ رسیدوں کو ایف بی آر کے سسٹم میں شامل کررہے ہیں ۔ فروری  میں یہ تعداد 39ہزار تھی جبکہ مارچ کے مہینے میں یہ تعداد بڑھ کر48ہزار ہو گئی ۔یہ اعداد و شمارعوام  میں اس انعامی اسکیم اور ایف بی آر پہ بڑھتے ہوئے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہیں جس میں آئے روزاضافہ ہورہا ہے۔
اس سے پہلے جنوری، فروری اور مارچ  کے مہینوں کی 15 تاریخ کو اسی نوعیت کی شفاف کمپیوٹرائزڈ انعامی قرعہ اندازیوں میں ایف بی آر کی جانب سے 3ہزار 31 صارفین میں 160ملین روپے کی خطیر انعامی رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔ نصف سے زائد خوش نصیبوں کے اکاؤنٹس میں ان کی انعامی رقم منتقل کی جاچکی ہے۔ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ عوام کی جانب سے اس انعامی اسکیم میں شمولیت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہےجس کی قرعہ اندازی کی تقریب  ہر مہینے کی 15 تاریخ کو قومی میڈیا کے سامنے  منعقد ہوتی ہے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ ملک بھر جن  4ہزار 2 سو ریٹیلرز کو بطور ٹیئرون کیٹیگری میں شمار کیا گیا ان میں  میں سے 3ہزار6سو پہلے ہی اپنے  کاروباری آپریشنز کو ایف بی آر کے پی او ایس سسٹم میں رجسٹرڈ کر چکے ہیں۔ ان کے 17 ہزار آؤٹ لیٹس پہ موجود 19ہزار 5سو کیش کاؤنٹرز ایف بی آر کے پی او ایس نظام سے مکمل طور پر منسلک ہیں۔

 

Asad Tahir Jappa
Chief PR/Director Media

Feb. 01, 2022

FBR has launched ‘Automated Currency Declaration System

Achieving yet another significant milestone towards automation and data integration in order to facilitate the taxpayers and the passengers flying in and out of the country, FBR has launched the ‘Automated Currency Declaration System’ this afternoon. Federal Minister for Finance & Revenue, Shaukat Fayaz Ahmed Tarin, presided over the launching ceremony at FBR (HQs), Islamabad as the Chief Guest. Chairman FBR/Secretary Revenue Division Dr. Muhammad Ashfaq Ahmed, Chairman NADRA Mr. Tariq Malik, and DG FIA Mr. Sanaullah Abbasi were present on the occasion.
Speaking to the august gathering comprising of all FBR Members, dignitaries, senior officers, and media representatives, Finance Minister congratulated Chairman FBR and his team for making this long-awaited initiative possible in a short period of time. He stated that the government was focusing on the documentation of the economy to broaden the tax base. “This aim can only be achieved through the use of technology and automation with a review of existing procedures and processes,” he remarked. He further added that Inter-agency coordination and cooperation were a sine qua non for the success of all efforts of business process re-engineering and adoption of a new framework for implementation of rules & regulations. “To achieve the goal of documentation of economy and to bring more transparency in the economic transactions, documentation of flow of foreign currency in and out of the country is pivotal,” he continued.
Presently, Currency Declarations (CDs) are obtained randomly from the passengers coming to or going out of the country through Airports. Currency Declarations are manually secured in the shape of hard copies and are then entered into the System manually in batches. For millions of passengers coming in and going out of the country, it is an uphill task, especially, with very few resources in comparison with the challenges faced by Pakistan Customs and other Law Enforcement Agencies (LEAs). Since the current Currency Declaration System (CDS) was not working to achieve the goal of complete documentation of foreign currency movement, a new system was envisaged by FBR.
This digital system was developed with the assistance of NADRA and FIA  and will now be deployed at all International Airports, starting from Islamabad International Airport. “This new system will be a hassle-free and time-saving, one-stop solution for all incoming and outgoing passengers,” Finance Minister remarked.
FBR is also working on securing data from banks and the State Bank of Pakistan along with the integration of Currency Exchange Companies with POS.  This will culminate in greater visibility and capturing of information that could then be used for analysis or audit purposes. The data captured through POS and CDS will then be shared with all relevant agencies including SBP, FIA, Customs, IRS, etc. for further necessary action as per law. This end-to-end visibility of the foreign currency market will bring a semblance of stability to the market and will also be instrumental in countering money laundering and currency smuggling. Federal Minister for Finance and Revenue, later, formally launched the ‘Automated Currency Declaration System’ by pressing the button. He commended all three government organizations -FBR, FIA, and NADRA-for working in unison and kick-starting this significant step.
Earlier, Chairman FBR/Secretary Revenue Division welcomed the Honorable Finance Minister on this auspicious occasion. He explained the scope and significance of the ‘Automated Currency Declaration System’. He further reiterated that FBR had been swiftly moving to automation and digitization to promote transparency and reliability. In his talk, he explained the salient features of the ‘Automated Currency Declaration System’ and added that the system would save time and ensure credibility. He further added that this digital intervention would also capture Currency Declarations data not only at Airports but also at land border stations where immigration desks were available and IBMS (Integrated Border Management System) of FIA was working. He further reassured that the integration of IBMS and FBR’s WeBOC System for this new endeavor in active technical cooperation of NADRA was the start of a new phase of cooperation among key agencies of the government and would pave the way for more collaborative initiatives in the future. He particularly commended NADRA and FIA for providing much-needed support in materializing this digital intervention. These meaningful synergies and enduring collaborations will certainly contribute significantly to ensuring ease of doing business while, simultaneously, maximizing tax compliance, he concluded.

ایف بی آر کی طرف سے خودکار کرنسی ڈیکلریشن سسٹم کا آغاز

ٹیکس گزاروں اور بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کی سہولت کے لیے آٹومیشن اور ڈیٹا انٹیگریشن کی جانب ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے، ایف بی آر نے آج سہ پہر ’’خودکار کرنسی ڈیکلریشن سسٹم‘‘ کا آغاز کر دیا۔ وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو شوکت فیاض احمد ترین نے  ایف بی آر (ہیڈ کوارٹرز) اسلام آباد میں افتتاحی تقریب کی صدارت بطور مہمان خصوصی کی۔ چئیرمین ایف بی آر و سیکریٹری  ریونیو ڈویثرن ڈاکٹر
محمد اشفاق احمد، چئیرمین نادرہ طارق ملک اور ڈی جی ایف آئی اے ثناءاللہ عباسی بھی تقریب میں موجود تھے۔
ایف بی آر کے تمام ممبران، معززین، سینئر افسران اور میڈیا کے نمائندوں پر مشتمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کو اس دیرینہ اقدام کومختصر مدت میں ممکن بنانے
پرمبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کو دستاویزی بنا کر ٹیکس نیٹ  میں اضافہ پر خصوصی توجہ مرکوز کر رہی ہے ۔ انہوں  نے کہا کہ “صرف ٹیکنالوجی اور آٹومیشن کو بروئے کار لانے سے ہی اس مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے اور  موجودہ طریقہ کار اور عوامل  پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے ۔” وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ بزنس پروسیس کی ترتیب نو  کی تمام  تر کوششوں کی کامیابی اور قواعد و ضوابط کے نفاذ کے لیے نئے فریم ورک کو اپنانے کے لیے انٹر ایجنسی کوآرڈینیشن اور تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ معیشت کو دستاویز کرنے کے ہدف کو عبور کرنے  اور معاشی لین دین میں مزید شفافیت لانے کے لیے، ملک کے اندر اور باہر  غیر ملکی کرنسی کے بہاؤ کو دستاویز کرنا انتہائی اہم ہے ۔
فی الحال کرنسی ڈیکلریشن (سی ڈی) ایئر پورٹس سے  ملک میں آنے یا جانے والے مسافروں سے بے ترتیبی سے لئے جاتے ہیں ۔ کرنسی ڈیکلریشنز کو دستی طور پر ہارڈ کاپیز کی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے اور پھر ان ہارڈ کاپیز کو بیچز میں مینوئل طریقہ کار  کے ساتھ سسٹم میں اندراج کیا جاتا ہے۔ ملک میں  آنے اور جانے والے لاکھوں مسافروں کے لیے بالخصوص پاکستان کسٹمز اور قانون نافذ کرنے والے  دیگر اداروں  کو درپیش مشکلات اور کم وسائل کے ساتھ یہ ایک کٹھن کام ہے ۔ چونکہ کرنسی ڈیکلریشنز کا موجودہ نظام فارن  کرنسی کی نقل و حرکت کی مکمل دستاویز کے ہدف کو حاصل نہیں کرسکتا تھا ، اس لیے ایف بی آر نے نئے سسٹم  کا تصور پیش کیا ہے۔
یہ نیا ڈیجیٹل سسٹم نادرا اور ایف آئی اے کے تعاون سے تیار کیا گیا  اور اب اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سےآغاز  ہوکر تمام بین الاقوامی ایئرپورٹس پر نصب کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ “یہ  نیانظام  بلا دقت اور وقت کی بچت کے ساتھ تمام آنے اور جانے والے مسافروں کے لیے ون سٹاپ سلوشن ہو گا۔”
ایف بی آر کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کو پی او ایس کے ساتھ منسلک کرنے کے علاوہ  بینکوں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ڈیٹا محفوظ کرنے پر بھی کام کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے معلومات کو بہتر طور پر اکھٹا کیا جا سکے گا جسے پھر تجزیہ یا آڈٹ کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پی او ایس اور سی ڈی ایس کے ذریعے حاصل کردہ ڈیٹا کو قانون کے مطابق مزید ضروری کارروائی کے لیے تمام متعلقہ ایجنسیوں بشمول سٹیٹ بینک آف پاکستان، ایف آئی اے ، کسٹمز ،آئی آر ایس  وغیرہ کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ فارن کرنسی مارکیٹ کی اینڈ ٹو اینڈ ویزیبلٹی  مارکیٹ میں استحکام لے کر آئے  گی   اور ملک میں منی لانڈرنگ اور دیگر متعلقہ جرائم کے انسداد میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو  نے بعد ازاں بٹن دبا کر ’خودکار کرنسی ڈیکلریشن سسٹم‘ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ انہوں نے تینوں سرکاری اداروں ایف بی آر، ایف آئی اے اور نادرا کو اس اہم اقدام کے آغاز پر متحد ہو کر کام کرنے پر سراہا۔
قبل ازیں چیئرمین ایف بی آر/سیکریٹری ریونیو ڈویژن نے اس اہم  موقع پر وزیر خزانہ کا استقبال کیا۔ انہوں نے ‘خودکار کرنسی ڈیکلریشن سسٹم’ کے دائرہ کار اور اہمیت کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایف بی آر شفافیت اوراعتماد کو فروغ دینے کیلئے آٹومیشن اور ڈیجیٹلائزیشن کی راہ پر مسلسل  گامزن ہے۔ اپنے خطاب  میں انہوں نے ‘خودکار کرنسی ڈیکلریشن سسٹم’ کی نمایاں خصوصیات کی وضاحت کی اور کہا کہ یہ نظام وقت کی بچت اور اعتماد  کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈیجیٹل سسٹم نہ صرف ایئر پورٹس  پر بلکہ زمینی بارڈر  اسٹیشنز پر بھی کرنسی ڈیکلریشن کا ڈیٹا حاصل کرے گا جہاں امیگریشن ڈیسک دستیاب ہیں اور ایف آئی اے کا آئی بی ایم ایس (انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم) کام کر تا ہے ۔ نئے سسٹم کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کو دیگر متعلقہ ایجنسیوں/محکموں جیسے نادرا، ایس بی پی اور آئی آر ایس کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا تاکہ بوقت ضرورت  مزید کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نادرا کی  فعال تکنیکی معاونت سے اس نئے اقدام میں آئی بی ایم ایس  اور ایف بی آر کا وی بوک سسٹم منسلک کرنے سے حکومت کے ان انتہائی اہم اداروں  کے مابین  تعاون کے ایک نئے دور کا آغازہواہے  جو کہ  مستقبل میں اس طرح کے مزید اقدامات کی راہ ہموار کرے گا۔انہوں نے اس ڈیجیٹل اقدام  کو عملی جامہ پہنانے کیلئے نہایت اہم معاونت فراہم کرنے پر خاص طور پر نادرا اور ایف آئی اے  کی کاوشوں کو سراہا ۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ   اداروں کے درمیان اس  پائیدار شراکت داری کے باعث تجارتی آسانی کو فروغ ملے گا اور ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو یقنی بنایا جا سکے گا۔
Adnan Akram Bajwa
Secretary PR

Jan. 27, 2022

People Excited to Become Citizen Tax Ambassadors for FBR

While addressing the participants present during the first computerized draw of POS Prize Scheme held at FBR (HQs) in the presence of national mainstream media on 15th January 2022, Chairman FBR Dr. Muhammad Ashfaq Ahmed had appealed the Pakistani citizens to launch a national movement for the promotion of a culture of tax compliance in the country. He had suggested a three-pronged strategy to ensure that Sales Tax collected from customers at the point of sale was actually being deposited in the state exchequer. He had proposed that people should shop only from those Tier-1 retail outlets which were integrated with FBR POS System, demand computerized invoices (Pakki Receipt), and finally verify the same through FBR Tax Asaan App.

It is so very reassuring to witness that citizens have started responding to his call and are demanding Pakki Receipt from the retail outlets. This morning, Chairman FBR received over half a dozen of invoices posted to him by Mr. Iqbal Khan, a resident of Sector G-13/3, Islamabad who was truly excited to have discharged his national responsibility. The Chairman FBR, immediately, rang him up in person to thank Mr. Khan for his responsible act and designated him as the first Citizen Tax Ambassador for FBR in its ongoing national drive for tax compliance. It is pertinent to mention that FBR has already distributed prizes worth Rs. 53 million among the lucky 1007 winners in the first computerized ballot held on 15th January 2022. It is also heartening to see that people are showing a lot of interest in becoming part of the next computerized draw, which will be held on 15th February 2022.

It is further encouraging to witness that a huge number of customers are verifying their shopping receipts through FBR’s Tax Asaan Mobile App and SMS. People are also reaching out to the Field Formations as well as FBR (HQs) to seek necessary guidance about this innovative Prize Scheme. Some of the responsible citizens have started sharing their invoices directly to senior management not only to discharge their national duty but also to register their support for this digital intervention made by FBR. This rare zeal and exemplary commitment shown by a huge number of people at large is a testimony to their trust in FBR and its innovative prize scheme. This spirit has already triggered an increased sense of responsibility in the people at large to become the watchmen of their tax collected by the retailers in order to ensure that the same is safely deposited in the national exchequer.

This initiative of engagement with customers is all set to pick momentum and thus accelerate the desired national drive to promote tax compliance and substantially increase revenues. It will also incentivize people to play their role as responsible citizens and compliant taxpayers. The POS Prize Scheme is providing an opportunity to people to win cash prizes after they shop from Tier-1 POS integrated retail outlets by verifying their receipts through Tax Asaan App or SMS.

Therefore, FBR has once again appealed to all the citizens across Pakistan to always ask for computerized invoices with a bar code (Pakki receipt) whenever they go shopping so that they could participate in the upcoming computerized draw to be held on 15th February 2022.

عوام ایف بی آر کے سٹیزن ٹیکس سفیر بننے کیلئے پرجوش

15 جنوری 2022 کوایف بی آر (ہیڈکوارٹرز ) میں قومی میڈیا کی موجودگی میں پی او ایس پرائز سکیم کی پہلی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے دوران  شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر  ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے پاکستانی شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ  ملک میں ٹیکس تعمیل کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے قومی مہم شروع کریں ۔  انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے سہ  جہتی حکمت عملی تجویز کی تھی تاکہ پوائنٹ آف سیل پر صارفین سے وصول کیا جانے والا سیلز ٹیکس حقیقت میں سرکاری خزانے میں جمع کیا جائے۔ انہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ لوگ صرف ان ٹیئر ون ریٹیل آؤٹ لیٹس سے خریداری کریں جو ایف بی آر پی او ایس سسٹم کے ساتھ منسلک  ہیں، کمپیوٹرائزڈ انوائس (پکی رسید) کا مطالبہ کریں اور ایف بی آر ٹیکس آسان ایپ کے ذریعے اس کی تصدیق کریں۔

 یہ بات نہایت اطمینان بخش ہے کہ اس  پر شہریوں کا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے ا  ور وہ ریٹیل آوٹ لیٹس  سے پکی رسید کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آج صبح، چیئرمین ایف بی آر کو اسلام آباد کے سیکٹر G-13/3 کے رہائشی  اقبال خان کی طرف سے انہیں ارسال کردہ  نصف درجن سے زائد رسیدیں موصول ہوئیں جو اپنی قومی ذمہ داری نبھانے پر واقعی پرجوش تھے۔ چیئرمین ایف بی آر نے ان کے اس ذمہ دارانہ طرز  عمل پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ذاتی طور پر فون کیا اور انہیں ٹیکس تعمیل کے لیے جاری قومی مہم میں ایف بی آر کا پہلا سٹیزن ٹیکس سفیرنامزد کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایف بی آر 15 جنوری 2022 کو منعقد ہونے والی پہلی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی میں 1007 خوش نصیبوں میں پہلےہی 5 کروڑ 30 لاکھ  روپے مالیت کے انعامات تقسیم کر چکا ہے۔  یہ امر  بھی خوش آئند ہے کہ لوگ15 فروری 2022 کو منعقد کی جانے والی  اگلی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کا حصہ بننے میں کافی دلچسپی ظاہر کر  رہے ہیں۔

صارفین کی ایک بڑی تعداد ایف بی آر کی ٹیکس آسان موبائل ایپ اور ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی خریداری کی رسیدوں کی تصدیق کر رہی ہے جو نہایت حوصلہ افزاء ہے ۔ لوگ اس  اختراعی انعامی اسکیم کے بارے میں ضروری رہنمائی حاصل کرنے کے لیے فیلڈ فارمیشنز کے ساتھ ساتھ ایف بی آر ( ہیڈ کوارٹرز )سے رجو ع کرتے ہیں  ۔ کچھ ذمہ دار شہریوں نے نہ صرف اپنا قومی فرض ادا کرنے بلکہ ایف بی آر کی طرف سے اٹھائے جانے والے اس ڈیجیٹل اقدام  کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرنے کیلئے  اپنی رسیدیں براہ راست اعلیٰ انتظامیہ کو دینا شروع کر دی ہیں۔  بڑی تعداد  میں  عوام کی جانب سے ظاہر کیا گیا  یہ   شاندار جوش اور مثالی عزم ایف بی آر اور اس کی اختراعی انعامی سکیم پر ان کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس جذبے نے پہلے ہی بڑے پیمانے پر لوگوں میں  احساس ذمہ داری کو جنم دیا ہے کہ وہ ریٹیلرز  کے ذریعے جمع شدہ  ٹیکس کے رکھوالے بنیں تاکہ اس کی قومی خزانے میں محفوظ طریقے سے منتقلی  یقینی ہو سکے ۔

صارفین کی شمولیت  کیلئے اٹھایا گیا یہ اقدام  جوں جوں تیزی پکڑ رہا ہے  اسی طرح  ٹیکس تعمیل کو فروغ دینے اور محصولات میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کے لیے درکار قومی مہم  تیز تر ہو گی ۔ اس سے لوگوں کو ذمہ دار شہری اور تعمیل کرنے والے  ٹیکس گزار کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب ملے گی۔ پی او ایس پرائز سکیم سے  لوگوں کو ٹیکس آسان ایپ یا ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی رسیدوں کی تصدیق کر کے پی او ایس ٹیئر ون سے منسلک یٹیل آؤٹ لیٹس سے خریداری کرنے کے بعد نقد انعامات جیتنے کا موقع مل رہا ہے۔

لہٰذا ایف بی آر نے ایک بار پھر پاکستان کے تمام شہریوں  سے اپیل کی ہے  کہ وہ جب بھی خریداری کے لیے جائیں تو ہمیشہ بار کوڈ کے ساتھ  کمپیوٹرائزڈ انوائس  (پکی رسید) طلب کریں تاکہ وہ 15 فروری 2022 کو ہونے والی آئندہ کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی میں شامل ہو سکیں ۔

 

Adnan Akram Bajwa
Secretary Public Relations Wing

Nov. 12, 2021

Advisor to PM on Finance & Revenue Launches Historic Initiative on Simplification of Tax Laws

In a watershed development and to press his vision into practice, Mr. Shaukat Tarin, Advisor to PM on Finance & Revenue has launched the formulation of the Inland Revenue Code in a bid to harmonize all inland taxation laws and maximize the facilitation of taxpayers. It promises to ensure ease of doing business by removing multiplicity of taxing statutes and a plethora of rules & regulations devised to operationalize them. It is pertinent to mention that FBR, on the domestic side, implements and enforces four major tax laws i.e. the Income Tax Ordinance, 2001, the Sales Tax Act, 1990, the Federal Excise, 2005, & the Islamabad Capital Territory (Sales Tax on Services) Ordinance, 2001. These four tax statutes are then supported by an equal number of rules compiled in voluminous books comprising the Income Tax Rules, 2002, the Sales Tax Rules, 2006, the Federal Excise Rules, 2005, and the Islamabad Capital Territory (Sales Tax on Services) Rules, 2001. Resultantly, a taxpayer has to consult practically eight law books in order to engage with the tax system and pay off his/her tax liability.

It goes beyond saying that the tax laws needed harmonization and simplification. This has long been demanded by World Bank, IMF, ADB, and other bilateral and multilateral donors. Similarly, there have been pressing demands by the civil society, lawyers’ community, and also superior courts who have found the above laws to be very complex and even un-implementable. However, previous governments have not been brave enough to embrace this challenge. Keeping this in view, the PTI government has decided to harmonize all these four tax laws by merging them into one law book supplemented by single rules book. It is in this context that in collaboration with ADB, a high-level committee has been constituted by FBR consisting of eminent tax professionals from the public sector and legal experts from ICAP to continuously oversee and review the draft legislation to ensure quality and correctness. The said committee would monitor the drafting of harmonized Inland Revenue Code, covering all tax laws by the end of March 2022.  After consultation with all key stakeholders including chambers of commerce, trade bodies, tax practitioners, and field formations over April & May 2022, it will be available for presentation before the Parliament in the Budget Session, 2022 for promulgation. It is positively hoped that the new Inland Revenue Code will be enforced with effect from July 1, 2022.

This high-value policy intervention is organically embedded in the larger vision of FBR to promote a culture of automation and digitization in order to ensure taxpayers’ facilitation.

In order to ensure that the Inland Revenue Code is thoroughly discussed with all major stakeholders and finally developed within the given timelines, Advisor on Finance & Revenue has directed Chairman FBR to personally review the progress of this immensely important draft law and update him on regular basis.

 

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو نے ٹیکس قوانین کو سادہ بنانے کے اقدام کا افتتاح کر دیا

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیوشوکت ترین نے اپنے ویثرن کی تکمیل میں ٹیکس گزاروں کو سہولت دینے کے لئے تمام  ان لینڈ ٹیکس قوانین کو ہم آہنگ اور یکجا کرنے کے لئے ان لینڈ ریونیو کوڈ کو وضع کرنے کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ ان لینڈ ریونیو کوڈ کو وضع کرنے سے تجارتی آسانی کو فروغ ملے گا اور بہت سے قوانین اور ریگیولیشنز کی وجہ سے ٹیکس نظام کی پیچیدگیوں سے چھٹکارا ملے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایف بی آر مقامی سطح پر چار بڑے ٹیکس قوانین کا نفاذ اور عمل درآمد کروا رہا ہے جن میں انکم ٹیکس آرڈینینس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 اور اسلام آباد حدود (خدمات پر سیلز ٹیکس) آرڈینینس 2001 شامل ہیں۔ اسی طرح ان چار ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کے لئے مفصل رولز بھی بنائے گئے ہیں جن میں انکم ٹیکس رولز 2002، سیلز ٹیکس رولز 2006، فیڈرل ایکسائز رولز 2005 اور اسلام آباد حدود (خدمات پر سیلز ٹیکس) رولز 2001 شامل ہیں۔ اس طرح ٹیکس گزار  کو آٹھ قانون کی کتابوں سے راہ نمائی لے کر اپنی ٹیکس ادائیگی کو پورا کرنا پڑتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس قوانین کو ہم آہنگ اورسادہ بنایا جائے جو کہ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف ، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دوسرے امدادی اداروں کا بھی دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ اسی طرح سول سوسائیٹی ، وکلاء اور اعلی عدالتوں کی طرف سے بھی قوانین کی پیچیدگی کوقوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ قرار دی جاتی  رہی ہے۔پچھلی حکومتوں نے اس اقدام کو اٹھانے کا چیلنج نہ لیا ۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان چار قوانین کو یکجا کرکے قانون کی ایک کتاب بنا دی جائے جس کے لئے صرف رولز کی ایک ہی کتاب ہو گی۔ اس پس منظر کے پیش نظر ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے اشتراک سے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں ممتاز پبلک سیکٹر ٹیکس پروفیشنلز اور آئی سی اے پی سے قانونی ماہرین کو شامل کیا گیا ہے جو کہ مسلسل ڈرافٹ قانون کی تیاری کی نگرانی اور نظر ثانی کریں گےتا کہ معیار اور درستگی کو یقنی بنایا جا سکے۔ یہ کمیٹی ان لینڈ ریونیو کوڈ کی ڈرافٹنگ کی نگرانی کرے گی اور اس حوالے سے تمام قوانین کی جانچ پڑتال مارچ 2022 تک مکمل کر لے گی۔ جس کے بعد تمام سٹیک ہولڈرز بشمول چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیمیں ، ٹیکس وکلاء اور فیلڈ دفاتر کی اپریل و مئی 2022 تک مشاورت کے بعد بجٹ سیشن 2022 کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کر دی جائے گی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان لینڈ ریونیو کوڈ کو یکم جولائی 2022 سے نافذ کر دیا جائے گا۔

یہ تاریخی اقدام ڈیجیٹائیزیشن اور آٹومیشن پر مبنی ایف بی آر کے اس ویثرن کا فطری جزو ہے جس کا مقصد ٹیکس گزاروں کی سہولت کو یقینی بنانا ہے۔

ان لینڈر یونیو کوڈ کو مقررہ تاریخ تک وضع کرنے کے عمل کو یقنی بنانے کے لئے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو نے چئیرمین ایف بی آر کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اس اہم ڈرافٹ قانون کی تیاری کے سلسلے میں سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے عمل اور اس کے بعد کے معاملات کی خود نگرانی کریں اور با قاعدگی سے پراگریس رپورٹ پیش کریں۔

 

Adnan Akram Bajwa
Secretary PR FATE Wing

Nov. 11, 2021

FBR Develops an Automated Facility in WeBOC to facilitate Businesses

In the continuation of the ongoing drive for digitization, Pakistan Customs (FBR) has developed an automated facility in WeBOC System to enable the small and medium export enterprises to acquire imported input goods from a Common Export House for subsequent exports under the Export Facilitation Scheme, 2021. Common Export House is a warehouse authorized by the Collector of Customs for import, warehouse, and supply of input goods without payment of customs duty, sales tax, federal excise duty, and withholding tax, to the small and medium export enterprises, direct or indirect exporters or commercial exporters. FBR has already issued a procedure for obtaining authorization to operate as Common Export House vide SRO 957(I)/2021 dated 30th July 2021. Public warehouses already operating under Customs warehousing rules can also apply to operate as a Common Export House, simultaneously.

The newly introduced automated facility in WeBOC includes features of online application filing for authorization to operate as Common Export House, authorization of common export warehouse by the regulatory collectorate, and filing of import Goods Declarations (GDs) of input goods by the authorized user of Common Export House as an importer. This automated system will also facilitate the supply of input goods to the SMEs and other authorized buyers within a period of two years from the date of importation.

کاروبار کے فروغ کے لئے ایف بی آر نے وی بوک نظام میں خودکار سہولت متعارف کر دی

ڈیجیٹائیزیشن کے  فروغ کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان کسٹمز ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کو ایکسپورٹ سہولتی سکیم 2021 کے تحت برآمدات کے لئے کامن ایکسپورٹ ہاؤس سے خام مال حاصل کرنے کے لئے وی بوک سسٹم میں خودکار سہولت متعارف کر دی ہے۔ کامن ایکسپورٹ ہاؤس چھوٹے اور درمیانے ایکسپورٹرز، ڈائیریکٹ اور ان ڈائیریکٹ  اور کمرشل ایکسپورٹرز کی سہولت کے لئے کسٹمز کولیکٹر سے منظور شدہ گودام ہے جس کو درآمدات ،  مال ذخیرہ کرنے اور خام مال کی بغیر کسٹمز ڈیوٹی ، سیلز ٹیکس ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ودہولڈنگ ٹیکس ادائیگی سے چھوٹ حاصل  ہے۔ایف بی آر نے جاری کردہ ایس آر او957(I)/2021  بتاریخ 30 جولائی 2021 کے ذریعے پہلے ہی کامن ایکسپورٹ ہاؤس کے لئے اجازت نامہ حاصل کرنے کا طریقہ کار بتا دیا ہے۔ ایسے پبلک وئیر ہاؤسز جو کہ کسٹمز وئیر ہاؤسنگ قوانین کے تحت کام کر رہے ہیں وہ بھی کامن ایکسپورٹ ہاؤس کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔

وی بوک سسٹم میں اس خودکار سہولت کے تحت کامن ایکسپورٹ ہاؤس کے لئے متعلقہ ریگیولیٹری کولیکٹوریٹ سے آن لائن اجازت نامہ حاصل کیا جا سکے گا اور آن لائن طریقہ کار سے منظور شدہ کامن ایکسپورٹ ہاؤس کو درآمدات کے لئے خام مال کی درآمدی گڈز ڈیکلیریشن فائل کی جاسکے گی۔اس خودکارنظام کے تحت درآمد کے دو سال تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور منظورشدہ خریدار کو خام مال کی سپلائی کی جا سکے گی۔

 

Adnan Akram Bajwa
Secretary PR FATE Wing

 

Nov. 02, 2021

Development of Single Sales Tax Portal

Building further on its vision to facilitate taxpayers and ensure ease of doing business through automation, digitization, and minimization of human interaction with taxpayers, FBR is all set to launch the Single Sales Tax Portal during November 2021. This landmark initiative has been made possible after thorough discussions with the provincial revenue authorities of Punjab, Sindh, KPK, Baluchistan, and AJK. This facility will enable taxpayers to file single monthly Sales Tax returns instead of multiple returns (6 in the past) on different portals; thereby, significantly reducing the time and cost of compliance, and thus achieving maximum efficiency. The system would be intelligent enough to sift and collect revenues from a single taxpayer and distribute the same among multiple revenue agencies.

This unique project would also help in resolving the long outstanding issues of input tax adjustment among relevant stakeholders. With the proposed launch of the Single Sales Tax Portal later this month, the existing cumbersome and tedious processes would be replaced with an efficient & automated system of tax adjustments, with minimum human involvement.

The Portal would also be beneficial for tax collectors in having a 360-degrees view of taxpayers’ business activities across the country in order to maximize revenue potential and tax compliance. By all standards, this is a giant leap forward in taxpayers’ facilitation and at the same time, a significant step in the harmonization of taxes between federal and provincial governments. Prime Minister of Pakistan is likely to launch this mega national initiative, later this month.

 

سنگل سیلز ٹیکس پورٹل  کی تشکیل

ٹیکس گزاروں کو سہولیات دینے’ انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنے اور خودکار ڈیجیٹل طریقہ کار سے تجارتی آسانی کے فروغ کے ویژن کی تکمیل کے لئے ایف بی آر کاتیار  کردہ سنگل سیلز ٹیکس پورٹل  تشکیل کےآخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے جس کا افتتاح ماہ نومبرمیں کر دیا جائے گا۔ یہ نہایت ہی اہمیت کا حامل اقدام پنجاب’ سندھ’ خیبر پختونخواہ’ بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کی صوبائی اتھاریٹیز کی مشاورت سے ممکن ہو اہے۔ سنگل سیلز ٹیکس پورٹل کی سہولت کی وجہ سے تمام ٹیکس گزار اب صرف ایک گوشوارہ ماہانہ بنیادوں پر داخل کریں گے  جبکہ اس سے پہلے ان کو ہر صوبائی اتھارٹی کے الگ الگ گوشواروں پر مشتمل کل چھ مختلف گوشوارے داخل کرنا پڑتے تھے۔ اس طرح سنگل سیلز ٹیکس پورٹل کے باعث وقت کی بچت اور تعمیلی لاگت میں کمی آئے گی اور بہترین کارکردگی حاصل ہو گی۔ مجوزہ خودکار نظام ایک ٹیکس گزار سے حاصل ہونے والے محصولات کا نہ صرف تعین  کرے گا بلکہ مختلف ریونیو اتھاریٹیز کے درمیان اس کی شفاف تقسیم کے عمل کو بھی یقنی بنائے گا۔

اس منفرد پراجیکٹ کے باعث تمام سٹیک ہولڈرز کا ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دیرینہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ رواں ماہ کے آخر میں اس مجوزہ سنگل سیلز ٹیکس پورٹل کے افتتاح کے بعد موجودہ پیچیدہ اور تھکا دینے والا ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ اب کم سے کم انسانی مداخلت کے باعث نہایت آسانی کے ساتھ خودکار طریقہ سے حل ہو جائے گا۔اس پورٹل کی وجہ سے ٹیکس کولیکٹرز ٹیکس گزاروں کی کاروباری سرگرمیوں کا بہترین جائزہ لے سکیں گے جو کہ ٹیکس قوانین کی تعمیل اور ریونیو میں اضافہ کا باعث بنے گا۔ ہر لحاظ سے سنگل سیلز ٹیکس پورٹل ٹیکس گزاروں کو سہولیات دینے اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ٹیکسز میں ہم آہنگی لانے کے لئے ایک بہت بڑا اقدام ہے۔امید ظاہر کی جارہی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان  رواں ماہ کے آخر میں اس بہت بڑے قومی منصوبے کا افتتاح اپنے دست مبارک سے فرمائیں گے۔

Adnan Akram Bajwa
Secretary PR FATE Wing


Sept. 10, 2021

FBR grants relaxation in filing of declarations under Assets Declaration Ordinance-2019

The Federal Board of Revenue (FBR) has decided to grant a one-time opportunity to the taxpayers who paid their tax under the Assets Declaration Ordinance-2019 but somehow could not file their declarations. The Assets Declaration Ordinance, 2019 was promulgated on May 14th, 2019 for payment of tax and declaration of corresponding assets by June 30th, 2019. The due date was extended till July 3rd, 2019.

Taking cognizance of the hardship caused and to facilitate the aggrieved citizen taxpayers, FBR has decided to allow filing of declarations for all those citizen taxpayers/persons who deposited tax under the Ordinance within the due date i.e. July 3rd, 2019 but could not file their declarations due to any reason. The system has been enabled for this purpose and all taxpayers can now file their declarations between September 10th, 2021 till September 25th, 2021.

This is a special dispensation granted under Section 7 of the Federal Board of Revenue Act, 2007.

ایف بی آر نے ایسیٹس ڈیکلیریشن آرڈینینس 2019 کے تحت  مقررہ ٹیکس ادا کرنے والوں کو اثاثہ جات ڈیکلیریشن گوشوارہ جمع کرانے کا موقع فراہم کر دیا

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے ایسیٹس ڈیکلیریشن آرڈینینس 2019 کےتحت ایسے ٹیکس گزاروں  کو اثاثہ جات ڈیکلیر کرنے کا  موقع فراہم کیا ہے  جنہوں نے  مقررہ تاریخ تک واجب الادا ٹیکس  کی ادائیگی تو کر دی  تھی لیکن باوجوہ اثاثہ جات ڈیکلیر نہ کرسکے۔اس حوالے سے سرکلر جاری کر دیا گیا ہے۔ایسیٹس ڈیکلیریشن آرڈینینس کو 14 مئی 2019 کو نافذ کیا گیاتاکہ اس سے فائدہ اٹھانے والے 30 جون 2019 تک ٹیکس کی ادائیگی اور اثاثہ جات کی ڈیکلریشن کو یقنی بناسکیں۔ مقررہ تاریخ میں 3 جولائی 2019 تک مزید  توسیع بھی کر دی گئی تھی۔

ان ٹیکس گزاروں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے ٹیکس گزاروں کو  15 ایام میں اثاثہ جات گوشوارہ داخل کرنے کا مو قع فراہم  کیا جائے جنہوں نے مقررہ تاریخ تک ٹیکس ادا کر دیا تھا اور کسی وجہ سے اثاثہ جات ڈیکلئر نہ کرسکے ۔ اس حوالے سے سسٹم کو فعال کر دیا گیاہے اور ایسے ٹیکس گزار 10 ستمبر سے 25 ستمبر کے دوران اپنے اثاثہ جات ڈیکلئر کر سکتے ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ 2007 کی شق 7 کے تحت خصوصی طور پر  یہ سہولت دی گئی ہے۔ 

 

Adnan Akram Bajwa
Secretary PR FATE Wing

Sep 10, 2021

 

Sept. 09, 2021

No extension in Returns filing date after 30th September, FBR

Improvement of tax compliance culture is the prime objective of the government and Federal Board of Revenue (FBR) is actively trying to achieve it with the cooperation of taxpayers. The decision of non-extension in due date for filing of return last year saw an overwhelming response from taxpayers.

In view of this the Iris portal for filing of return this year was operationalized w.e.f 1st of July, 2021 in order to facilitate the compliant taxpayers.

FBR has advised all taxpayers required to file tax return by 30th September, 2021 to fulfill their legal obligation without waiting for the last date to avoid system delays which occur when a large number of taxpayers log-in for submission of returns near deadline. FBR has reiterated that there will be no extension in due date for filing of Income tax return.

ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کی تاریخ میں توسیع نہیں کی جائے گی

ٹیکس قوانین پر عمل درآمدکے  کلچر کو بہتر بنانا حکومت کا بنیادی مقصد ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٹیکس گزاروں  کے تعاون سے اس کے حصول کیلئے  سرگرم عمل ہے۔ گزشتہ  سال گوشوارے داخل کرنے کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کے فیصلے پر ٹیکس گزاروں کی جانب سے مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔

ٹیکس گزاروں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے   رواں سال گوشوارے داخل کرانے  کیلئے آئیرس پورٹل کو جولائی 2021 سے فعال کر دیا گیا تھا  ۔

ایف بی آر نے  تمام ٹیکس گزاروں کو یا ددہانی کرائی ہے کہ آخری تاریخ کا انتظار کئے بغیر اپنی قانونی ذمہ داری نبھائیں  اور30 ستمبر 2021 تک ٹیکس گوشوارے لازمی داخل کر لیں تاکہ  آخری تاریخوں میں سسٹم  پر پڑنے والے دباؤ سے بچا جا سکے۔ایف بی آرنے ایک مرتبہ دوبارہ واضح کیا ہے کہ  انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرانے کی مقررہ  تاریخ میں  توسیع نہیں کی جائے گی۔

 

Adnan Akram Bajwa
Secretary PR FATE Wing

Sep 09, 2021

July 01, 2021

FBR uploads Income Tax Return Forms for Tax Year-2021

Federal Board of Revenue (FBR) has uploaded the Income Tax Return Forms for Tax Year-2021. Separate Return Forms for Salaried, Association of Persons and Business Individuals have been uploaded. The Income Tax Returns can be filed through web portal and Tax Asaan application.

In a press release issued here on Thursday, FBR has stated that taxpayers are provided guidance on filling all the required particulars in the form. The Income Tax Returns can be filed online through smart phones by installing the Tax Aasaan application from Google play store. In this regard, a media campaign would also be launched for awareness and education purposes. The taxpayers can file their Income Tax Returns till 30th September, 2021.

ٹیکس سال 2021 کے لئے آن لائن انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کے فارم جاری

 ایف بی آر نے ٹیکس سال 2021 کے لئے آن لائن انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کے فارم اپلوڈ کر دیئے ہیں۔تنخواہ داروں، ایسوسی ایشن آف پرسنز اور کاروبار ی حضرات کے لئے الگ فارمز اپلوڈ کئے گئے ہیں۔ ٹیکس گوشوارے ایف بی آر کی آن لائن ویب پورٹل یا ٹیکس آسان ایپ کے ذریعے داخل کئے جا سکتے ہیں۔

جاری کردہ پریس ریلیز میں ایف بی آر نے کہا ہے کہ  ٹیکس گزارانکم ٹیکس گوشوارے آن لائن راہنمائی کے ساتھ باآسانی  داخل کر سکتے ہیں۔انکم ٹیکس گوشوارے سمارٹ فون کے ذریعے داخل کئے جا سکتے ہیں۔ٹیکس آسان ایپ گوگل سٹور سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔مزید بتایا گیا کہ انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے پر ٹیکس گزاروں کی راہنمائی کے لئے اشتہاری کیمپین بھی کی جائے گی ۔ ٹیکس گزار  30 ستمبر تک انکم ٹیکس گوشوارے داخل کر سکتے ہیں۔

 

Adnan Akram Bajwa
Secretary PR FATE Wing

July 01, 2021

FBR registers historic growth of 18 % in Financial Year 2020-21

Federal Board of Revenue (FBR) has released the provisional revenue collection figures for the Fiscal Year 2020-21. According to the provisional information, FBR has collected net revenue of Rs. 4,732 billion during Jul-June period, which has exceeded the target of Rs.4, 691 billion by Rs. 41 billion. This represents a growth of about 18% over the collection of Rs. 3,997 billion during the same period last year.

The net collection for the month of June was Rs. 568 billion representing an increase of 26% over Rs. 451 billion collected in June 2020. The year-on-year growth of 18% is unprecedented particularly as it is realized on the heel of 26% growth in June. These figures would further improve before the close of the day and after book adjustments have been taken into account.

On the other hand, the gross collections increased from Rs. 4,132 billion during this period last year to Rs. 4,983 billion, showing an increase of 21 %. The amount of refunds disbursed was Rs. 251 billion compared to Rs. 135 billion paid last year, showing an increase of 86%. This is reflective of FBR’s resolve to fast-track refunds to prevent liquidity shortages in the industry.

The improved revenue performance is even more significant due to the adoption of ‘no-undue’ advances policy as well as effective enforcement by field formations. It is also a reflection of growing economic activities in the country despite facing the challenge of third wave of COVID-19.

Meanwhile, FBR’s efforts to broaden the tax base are expanding apace. Early signs suggest such efforts are bearing fruits. As on 30-6-2021, income tax returns for the tax year 2020 have reached 3.01 million Compared to 2.67 million in Tax Year 2019, showing an increase of 12.5 %. The tax deposited with returns was Rs.52 billion compared to only Rs.34.3 billion last year, showing an increase of 52.1%.

According to the information released by FBR, 11,100 point of sale terminals have been integrated with real-time reporting system of FBR.

Pakistan Customs has collected Rs. 742 billion under the head of customs duty in FY 2020-21 against the assigned target of Rs. 640 billion and exceeded its target by Rs. 102 billion which is 16% more than the assigned target. Whereas during the month of June, 2021 an amount of Rs. 83 billion has been collected under the head of customs duty against the monthly target of Rs. 75 billion which is again 12% more than the assigned monthly target. It is quite important to mention that an amount of Rs. 117 billion was collected more under the head of customs duty in financial year 2020-21 as compared to FY 2019-20, despite the re-arrival of COVID-19 pandemic and has shown a growth of 18% as compared to previous financial year, which is quite remarkable.

During June 2021 smuggled goods worth Rs. 3.7 billion have been seized. Similarly, during July 2020- June 2021, smuggled goods worth Rs. 57.7 billion have been seized as compared to Rs. 36 billion in Jul 2019-June 2020 thus showing an increase of 58%.

Directorate General of Intelligence & Investigation-IR showed commendable performance during July 2020 to June 2021. During this period, Directorate General forwarded 1,608 Investigation Reports and Red Alerts to the field formations involving revenue amounting to Rs. 244 billion. Directorate General filed 71 complaints under Anti-Money Laundering Act, 2010 where more than Rs. 62 billion were involved. Directorate General seized 8,754 cartons containing 87,540,000 cigarette sticks during the period of July 2020 to June 2021.

مالی سال  2020-21میں محاصل کے حصول میں ریکارڈ18 فیصد اضافہ، ایف بی آر

فیڈرل بور ڈ آف ریونیو نے  مالی سال 2020-21میں  حاصل کردہ محصولات کی ابتدائی تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے مطابق ایف بی آر نے جولائی تا جون 4732  ارب روپے کا نیٹ رینیو حاصل کیا ہے جو کہ اس عرصہ کے مقر ر کردہ ہدف4691  ارب روپے سے41 ارب زائد ہے۔ اس طرح پچھلے سال اس عرصہ کے حاصل کردہ نیٹ ریونیو3997ارب روپے کے مقابلے میں18فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔

ایف بی آر نے ماہ جون کے اعدادو شمار بھی جاری کر دیئے ہیں ۔ ماہ جون میں ریونیو نیٹ کولیکشن568 ارب روپے رہا جو کہ پچھلے سال جون کے حاصل کردہ نیٹ ریوینیو 451ارب روپے کے مقابلے میں26 فیصد زائد ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال 18 فیصد زائد محصولات اور 26 فیصد جون کا اضافہ ایک ریکارڈ  اضافہ ہے۔ ماہ   جون کے آخری دن کے اختتام تک اور بک ایڈجسٹمنٹ کی مد میں حاصل ہونے والی وصولیوں کے بعدمحصولات کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

اسی طرح گراس ریونیو پچھلے سال کے4132 ارب روپے کے مقابلے میں4983 ارب روپے رہا اور21  فیصد اضافہ حاصل ہوا۔ مالی سال2020-21 میں 251ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے جو کہ پچھلے سال اس عرصہ میں135ارب روپے تھے۔ ریفنڈز کے اجراء میں  86فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے ۔ ریفنڈز کی تیز تر ادائیگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف بی آر مختلف صنعتوں کو درپیش لیکویڈیٹی مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہے۔

 ریونیو حصول میں بہترین کارکردگی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ بے جا ایڈوانس پالیسی اختیار نہیں کی گئی بلکہ فیلڈ دفاتر کی بہتر انفورسمنٹ  محاصل میں اضافہ کا باعث بنی۔ ریونیو حصول میں بہترین کارکردگی ملکی معاشی سرگرمیوں میں تیزی کی بھی نشاندہی کر تی ہے حالانکہ کووڈ 19 کی تیسری لہر کا بھی سامنا ہے۔

ایف بی آر ٹیکس نیٹ میں اضافہ کے لئے بھر پور کوششیں کر رہا ہے ۔ ان کوششوں کے باعث مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ 31 جون 2021 تک ٹیکس سال 2020 کے لئے انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد30لاکھ10 ہزار ہو چکی ہےجو کہ پچھلے سال اس عرصہ  تک26  لاکھ 70 ہزار تھی اس طرح ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد میں  12.5فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔ ٹیکس گوشوارں کے ساتھ ادا شدہ ٹیکس 52ارب روپے رہا جو کہ پچھلے سال اس عرصہ میں 34ارب روپے تھا۔ اس طرح ٹیکس ادائیگی میں52  فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔

ایف بی آر  کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 11100 پوائینٹ آف سیل ٹرمینلز ایف بی آر کے رپورٹنگ سسٹم کے ساتھ منسلک  ہو چکے ہیں۔

پاکستان کسٹمز نے مالی سال2020-21  میں 742 ارب روپے کی کسٹمز ڈیوٹی حاصل کی جبکہ مقرر کردہ ہدف 640 ارب روپے تھا۔ اس طرح ہدف سے 102 ارب روپے اور 16 فیصد زائدکسٹمز ڈیوٹی حاصل کی۔ جون کے ماہ میں 83ارب روپے کی کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی جبکہ مقرر کردہ ہدف75 ارب روپے تھا۔ اس طرح 12 فیصد زائد کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 2019-20کے مقابلے میں  مالی سال 2020-21 میں 117 ارب روپے زائد کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی جو کہ 18 فیصد زائد ہے حالانکہ کرونا کے باعث معاشی سست روی بھی جاری ہے۔

جون 2021میں 3.7 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئی۔مالی سال  2020-21میں 57.7 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئی جو کہ پچھلے سال 36 ارب روپے کی تھی اس طرح ضبطگی میں58 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔

ڈائیریکٹوریٹ جنرل انٹیلیجنس اینڈ انوسٹی گیشن آئی آر نے  مالی سال2020-21 جولائی تا جون شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ڈایریکٹوریٹ جنرل نے 1608 تفتیشی رپورٹس اور ریڈ الرٹس ایف بی آر کے ذیلی دفاتر کو بھیجی ہیں جو کہ 244ارب روپے کے ریونیو سے متعلق ہے۔ ڈایریکٹوریٹ جنرل نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت 71 شکایات درج کی جو کہ 62 ارب روپے کے ریونیو سے متعلق ہے۔ ڈائیریکٹوریٹ جنرل نے سگریٹ کے 8754کارٹنز ضبط کئے ہیں جن میں 8کروڑ 75 لاکھ سے زائد سگریٹ تھے۔

March 01, 2021

FBR issues Circular to form a new complaints redressal forum for Taxpayers

Federal Board of Revenue (FBR) has intensified the zero tolerance policy against corruption and irregularity by issuing a Circular whereby a new complaint redressal mechanism has been devised to address the complaints of taxpayers against corruption and rent seeking in Inland Revenue Field Formations. This new mechanism will hide the identity of the complainant thereby allaying his fears of any possible reaction by the officer or official who has been complaint against.

FBR has added that the important element of this new system is that all complaints would be received by Member (Inland Revenue-Operations) himself on an especially dedicated cellphone +92-0345-5555507 which would be in his own possession, exclusively. The complaints would be opened, acknowledged, and treated as per law in a highly confidential manner. The identity of the complainants would be immediately masked and encoded to safeguard them against any undue consequences.

The standard operating procedure (SOP) for lodging and handling of complaints against IR field functionaries include lodging of complaints by the complainant through a text message at above mentioned cell number on WhatsApp, preferably. In WhatsApp text option, the complainant would identify himself by writing his name, address, CNIC, the case particulars and his cell phone number. The complainant would write the name(s) of the official(s) or officer(s) against whom the complaint is directed along-with his/their designation, place of posting, and any other particulars, if available.

The complaint must be supported by some evidence such as audio or video recording, text message exchanged with the FBR functionary or any other documents, which could be attached with the text message, or subsequently sent by hard mail. If no such evidence is readily available, an affidavit on a legal paper, clearly spelling out the allegation and the person against whom the allegations are levelled would suffice. Upon receipt of the complaint, a code number would be allotted to each complainant and his back-end identity data would be hidden beyond the access of field officers. This code number would help a complainant track progress on his complaint and the outcomes on it. Depending on the nature of the complaint and the evidence provided, the matter would be taken to a logical consequence in the shortest possible time. Non-specific, unsupported or generalized complaints will not be processed.

FBR has clarified that this SOP is exclusively targeted to attack corruption and rent-seeking in the IR Field Formations, and not address complaints of routine nature. Maladministration-related grievances pertaining to tax assessments, delay in processing or payment of refunds, or issuance of exemption certificates etc. need to be brought to the notice of Chief Commissioner concerned who, vide FBR’s Order dated 16.11.2020, have already been designated as Inland Revenue Ombudspersons and assigned the task of redressing taxpayers’ grievance in the quickest possible time.

FBR has emphasized that Taxpayers can continue to utilize the forum of Integrity Management Cell, Pakistan Citizen Portal and Helpline for redressal of their grievances besides this newly established mechanism of complaint resolution.

ایف بی آر نے شکایات کے ازالہ کا نیا نظام متعارف کر دیا

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے بدعنوانی اور بے ضابطگی کے خلاف جاری اقدامات کے تسلسل میں سرکلر جاری کیا ہے جس کے تحت ٹیکس گزار آئی آر فیلڈ دفاتر میں کرپشن اور رشوت ستانی میں ملوث کسی بھی افسر یا اہلکار کے خلاف شکایت درج کرا سکے گا۔ اس نئے طریقہ کار کی خصوصیت یہ ہے کہ شکایت کنندہ کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی تا کہ اس کو یہ خوف نہ ہو  کہ جس افسر یا اہلکار کے خلاف اس نے شکایت درج کی ہے وہ اس کے خلاف بے جا انتقامی کاروائی کرسکے۔

ایف بی آر نے کہا ہے کہ اس نئے طریقہ کار کی یہ خوبی ہے کہ تمام شکایات ممبر آئی آر آپریشنز خود وصول کریں گے۔ اس مقصد کے لئے ممبر آئی آر آپریشنز9203455555507 + نمبر استعمال کریں گے جو کہ ہر وقت  ممبر کے زیر استعمال ہو گا۔ قانون کے مطابق شکایات کو مکمل رازدارانہ طریقہ کے مطابق کھو لا اور پرکھا جائے گا۔ شکایت کنندہ کی شناخت کوفورا” چھپا دیا جائے گا تا کہ اس کے خلاف کسی قسم کی زیادتی نہ کی جا سکے۔

ایف بی آر نے شکایات درج کرنے کا طریقہ کار وضع کر دیا ہے جس کے مطابق شکایت کنندہ  کو اوپر درج کئے گئے موبائل نمبرپر ٹیکسٹ میسج کر کے شکایت درج کرانا ہو گی۔ ایف بی آر نے ٹیکس گزاروں سے درخواست کی ہے کہ وہ واٹس ایپ پر شکایات درج کرائیں۔ واٹس ایپ میسج کے ذریعے شکایت کنندہ اپنا نام، پتہ ، شناختی کارڈ نمبر ، اپنی شکایت کی تفصیل اور موبائل نمبر درج کرے گا۔ شکایت کنندہ اس افسر یا اہلکار کا نام، عہدہ اور تعیناتی کا سٹیشن بھی درج کرے گا جس کے خلاف شکایت درج کی جانی ہے۔

شکایت کنندہ کو شکایت کے ساتھ کوئی آڈیو ، ویڈیو یا ٹیکسٹ میسج کی شکل میں ثبوت بھی فراہم کرنا ہو گا جو کہ شکایت کے ساتھ بھیجی جا سکے یا پھر بعد میں ڈاک کے ذریعے بھیجی جا سکے۔ اگر شکایت کے ساتھ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تو شکایت کنندہ کو بیان حلفی دینا ہو گا جس میں الزامات کی تفصیل اور جس کے بارے میں الزامات لکھے گئے ہیں اس کی معلومات درج کی گئی ہوں۔شکایت وصول ہونے کے بعد ہر شکایت کنندہ کو ایک کوڈ نمبر الاٹ کیا جائے گا اور فیلڈ دفاتر کے لئے شکایت کنندہ کی شناخت مخفی رکھی جائے گی۔ اس کوڈ کے ذریعے شکایت کنندہ اپنی شکایت کو ٹریک کر سکے گا۔ ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ شکایت کی تفصیلات کی جانچ پڑتال کرکے جلد از جلد شکایت کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ ثبوت کے بغیر جنرل شکا یت پر کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا۔

ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ شکایت کے اس طریقہ کار کو صرف اسی لئے وضع کیا ہے کہ فیلڈ دفاتر میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کا قلع قمع کیا جا سکے۔ ریفنڈز، ٹیکس تخمینہ ، بد انتظامی اور اس طرح کی دوسری شکایات کے لئے ٹیکس گزار چیف کمشنر سے براہ راست رابطہ کریں ۔ چیف کمشنرز کو ایف بی آر کے حکمنامہ بتاریخ  16نومبر  2020 کے تحت آئی آر محتسب کا عہدہ دے دیا گیا ہے تاکہ وہ جلد از جلد شکایت کا ازالہ کر سکے۔

ایف بی آر نے مزید وضاحت  میں کہا ہے کہ اس نئے طریقہ کار کے علاوہ ٹیکس گزار شکایات کے ازالے  کے لئے پہلے سے وضع کردہ   فورم جیسے انٹیگریٹی مینجمنٹ سیل، پاکستان سٹیزن پورٹل اور ایف بی آر ہیلپ لائن کو بھی استعمال کر کے اپنی شکایات کا اندراج کروا سکتے ہیں۔

Adnan Akram Bajwa
Secretary PR FATE Wing

Feb. 28, 2021

FBR achieves 8-Month revenue collection target

Federal Board of Revenue (FBR) has released the provisional revenue collection figures for the first eight months of current fiscal year. According to the provisional information, FBR has collected net revenue of Rs.2916 billion during Jul-Feb period, which has exceeded the target of Rs.2898 billion. This represents a growth of about 6% over the collection of Rs.2750 billion during the same period last year.

The net collection for the month of February was Rs.343 billion against a required target of Rs.325 billion, representing an increase of 8% over last February and 106% of the target. When finalized after book adjustments, the collection figures are likely to improve further.

On the other hand, the gross collections increased from Rs.2823 billion during this period last year to Rs.3068 billion, showing an increase of nearly 9%. The amount of refunds disbursed was Rs.152 billion compared to Rs.79 billion paid last year, showing an increase of 97%. This is reflective of FBR’s resolve to fast-track refunds to prevent liquidity shortages in the industry.

The improved revenue performance is a reflection of growing economic activities in the country despite facing the continued challenge of second wave of COVID-19. During March-June 2021, it is expected that this revenue performance would be improved substantially compared to 2020 when economic activities were disrupted.

Meanwhile, FBR’s efforts to broaden the tax base are expanding apace. Early signs suggest such efforts are bearing fruits. As on 28-2-2021, income tax returns for tax year 2020 have reached 2.62 million compared to 2.43 million last year, showing an increase of 8%. The tax deposited with returns was Rs.49.6 billion compared to only Rs.31.0 billion, showing an increase of 60%. It may be recalled that last year the final date for submission to returns was 28th February. FBR’s decision to adhere to 8th December as the last date has been vindicated as more returns and higher tax payments have been recorded during the tax year 2020 compared to 2019.

Besides, FBR has issued notices to nearly 2.1 million taxpayers who were supposed to file return, or have filed a nil return, or mis-declared their assets or have not been filing return for sales tax to comply with their legal obligations. The exercise is eliciting encouraging response. However, those who are not complying would be pursued diligently until compliance is achieved.

FBR has also released the information about Tier-I retailers who have been integrated with POS system. According to the information, 9952 sales points have been integrated with Point of Sales Linked Invoicing System.

Pakistan Customs has initiated a focused counter-smuggling drive. During February 2021, smuggled goods worth Rs. 4.08 billion have been seized while in February 2020; smuggled goods worth Rs. 3.02 billion were seized, thus showing a monthly increase of 35.18 %. Similarly, during last 8 months (July 2020-Feb 2021) of current financial year smuggled goods worth Rs. 39.52 billion have been seized as compared to Rs. 25.10 billion from July 2019 to February 2020 of the last financial year thus showing an increase of 57.45 %. Moreover, the value of seized goods of Rs. 39. 52 billion in 8 months of current FY has crossed the total value of seized goods of last year. In FY 2019-20, smuggled goods worth Rs 36 billion were seized.

ایف بی آر نے رواں مالی سال جولائی تا فروری ہدف سے زائد ریونیو حاصل کر لیا

فیڈرل بور ڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں حاصل کردہ محصولات کی ابتدائی تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے مطابق ایف بی آر نے جولائی تا فروری2916 ارب روپے کا نیٹ رینیو حاصل کیا ہے جو کہ اس عرصہ کے مقر ر کردہ ہدف 2898 ارب روپے سے زائد ہے۔ اس طرح پچھلے سال اس عرصہ کے حاصل کردہ نیٹ ریونیو 2750 ارب روپے کے مقابلے میں 6 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔

ایف بی آر نے ماہ فروری کے اعدادو شمار بھی جاری کر دیئے ہیں ۔ ماہ فروری میں ریونیو نیٹ کولیکشن 343 ارب روپے رہا جبکہ مقرر کردہ ہدف 325 ارب روپے تھا اس طرح مقرر کردہ ہدف کے مقابلے میں106 فیصد اضافہ حاصل ہو اہے اور پچھلے سال فروری کے حاصل کردہ نیٹ ریوینیو کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔بک ایڈجسٹمنٹ کی مد میں حاصل ہونے والی وصولیوں کے بعدمحصولات کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں گراس ریونیو پچھلے سال کے 2823 ارب روپے کے مقابلے میں 3068ارب روپے رہا اور 9 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔رواں مالی سال اب تک 152 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے جا چکے ہیں جو کہ پچھلے سال اس عرصہ میں79 ارب روپے تھے۔ اس سال اب تک ریفنڈز کے اجراء میں 97 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے ۔ ریفنڈز کی تیز تر ادائیگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف بی آر مختلف صنعتوں کو درپیش لیکویڈیٹی مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہے۔

 ریونیو حصول میں بہترین کارکردگی ملکی معاشی سرگرمیوں میں تیزی کی نشاندہی کر تی ہے حالانکہ کووڈ 19 کی دوسری لہر کا بھی سامنا ہے۔ توقع ہے کہ مارچ تا جون ریوینو حصول میں معاشی ترقی کے باعث مزید بہتری آئی گی جو کہ پچھلے سال اس عرصہ میں کووڈ 19 کی وجہ سے جمود کا شکار تھی۔

ایف بی آر ٹیکس نیٹ میں اضافہ کے لئے بھر پور کوششیں کر رہا ہے ۔ ان کوششوں کے باعث مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ 28فروری 2021 تک ٹیکس سال 2020 کے لئے انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 26 لاکھ 23 ہزار ہو چکی ہےجو کہ پچھلے سال اس عرصہ  تک 24لاکھ 30 ہزار تھی اس طرح ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد میں 8 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔ ٹیکس گوشوارں کے ساتھ ادا شدہ ٹیکس 49.6 ارب روپے رہا جو کہ پچھلے سال اس عرصہ میں 31 ارب روپے تھا۔ اس طرح اس سال ٹیکس ادائیگی میں 60 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔ یہان یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال گوشوارے داخل کرنے کی آخری تاریخ 25فروری تھی۔ ایف بی آر کا 8 دسمبر 2020 آخری تاریخ رکھنے اور تاریخ میں توسیع نہ کرنے کے فیصلے کی وجہ سے پچھلے سال کے ٹیکس سال کے مقابلے میں ٹیکس سال 2020 میں زائد گوشوارے داخل ہوئے ہیں اور گوشواروں کے ساتھ زائد ٹیکس حاصل ہوا ہے۔

اس کے علاوہ ایف بی آر نے21 لاکھ ٹیکس گزاروں کو نوٹسز جاری کئے ہیں جنہوں نے گوشوارے داخل نہیں کئے یا صفر قابل ٹیکس آمدنی ظاہر کی ہے اور اپنے اثاثوں کی غلط تفصیلات فراہم کی ہیں یا پھر سیلز ٹیکس کے گوشوارے جمع نہیں کئے۔ ایف بی آر کے اس اقدام سے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔  ایف بی آر ٹیکس قوانین کی تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف بھر پور قانونی کاروائی جاری رکھے گا۔

ایف بی آر نے پوائینٹ آف سیل سسٹم کے ساتھ منسلک ہونے والے بڑے ریٹیلرز کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں جس کے مطابق9952 سیل مشینیں پوائینٹ آف سیل سسٹم کے ساتھ منسلک کی جا چکی ہیں۔

پاکستان کسٹمز نے سمگلنگ کے خلاف بہت موثر اقدامات اٹھائیں ہیں جس کی بدولت فروری 2021 میں 4.08 ارب روپے مالیت کی سگل شدہ اشیاء ضبط کی گئی ہیں جبکہ پچھلے سال اسی ماہ میں 3.02 ارب روپے مالیت کی اشیاء ضبط کی گئی تھی۔اس طرح ماہانہ اضافہ 35.18 فیصد حاصل ہوا ہے۔ رواں مالی سال جولائی تا فروری 39.52 ارب روپے مالیت کی اشیاء ضبط ہوئی ہیں جبکہ پچھلے سال اس عرصہ میں 25.10 ارب روپے مالیت کی اشیاء ضبط ہوئی تھی۔ اس طرح 57.45 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔ رواں مالی سال کے آٹھ ماہ میں ضبط شدہ اشیاء کی مالیت 39.52 ار ب روپے پچھلے پورے سال میں ضبط شدہ اشیاء کی مالیت 36 ارب روپے سے بڑھ گئی ہے۔

Adnan Akram Bajwa
Secretary PR FATE Wing

April 14, 2020

FBR requests Taxpayers to provide IBAN for Electronic Transfer of Refunds

FBR has devised a centralized system of online payment of Sales Tax, FED and Income Tax refunds directly in the bank account of the taxpayers. For this purpose, FBR has requested the taxpayers to update their IRIS profile. In the given bank account details area in the system, IBAN detail row is added wherein taxpayers are required to add their complete Bank’s IBAN number of same Bank Account whose details are already available in IRIS profile to receive Sales Tax, FED and Income Tax refund cheques. FBR has advised the taxpayers to do the needful as soon as possible to avail electronic transfer facility.

ایف بی آر کی ریفنڈز ادائیگی کے لئے ٹیکس گزاروں سے IBAN نمبر فراہم کرنے کی درخواست

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور انکم ٹیکس ریفنڈز کو براہ راست ٹیکس گزاروں کے بینک اکاونٹس میں ٹرانسفر کرنے کا مرکزی نظام تشکیل دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے تمام ٹیکس گزاروں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے آئرس پروفائل کو اپڈیٹ کریں اور آئرس میں دئیے گئے اپنے بینک اکاونٹس کے ساتھ اپنے بینک کا IBAN نمبر بھی فراہم کریں تاکہ سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور انکم ٹیکس ریفنڈز کے چیک براہ راست ٹیکس گزاروں کے بینک اکاونٹس میں بھیجے جا سکیں۔

 

Adnan Akram Bajwa
Secretary PR FATE Wing

March 05, 2020

FBR clarifies the number of Tax Returns filed in Tax Year 2018 & 2019

The Federal Board of Revenue has issued a clarification on the news items relating to an actual number of tax returns filed in Tax Year 2019 and Tax Year 2018 published in the newspapers. FBR has clarified that a number of tax returns filed in Tax Year 2018 till 28th February 2019 was 16,95,560 whereas the number of tax returns filed in Tax Year 2019 till 28th February 2020 was 24,72,609 which showed an increase of 45 % compared to the corresponding month in the last Tax Year.

FBR has further stated that the date for filing tax returns was extended in Tax Year 2018 and the last date for filing tax returns was set as 9th August 2019. The news items depicted the comparison of tax returns filed till the last date of Tax Year 2018 with the last date of Tax Year 2019 which gave the perception that the actual tax returns filed in Tax Year 2019 have decreased compared to Tax Year 2018.

FBR has further added that the total period from the last date of Tax Year 2018 till the last date of Tax Year 2019 consists of almost six months. This period of six months for Tax Year 2019 is comparably very short to that of Tax Year 2018. The number of Tax Returns 24,72,609 filed in six months for Tax Year 2019 shows the great achievement of FBR.

The people continue to file tax returns to come on the Active Taxpayers List even after the last date but the returns can only be filed by paying a surcharge after the set last date.

Adnan Akram Bajwa
Secretary Public Relations (PR)/(FATE)

Dec. 09, 2015

New website www.bahriatownoffers.com has been launched !

A new website regarding Bahria Town Karachi project has been launched successfully on Dec. 09, 2015.  Everyone knows in Pakistan that Bahria Town has developed value-added, master-planned communities housing thousands of families enjoying a complete living experience. Bahria Town is located 9 km away at left from Toll Plaza, Superhighway, Karachi.

The whole Bahria, like others in the country, is consisting of the residential and commercial projects, nevertheless, if you need to focus on Bahria Homes project to be developed and constructed by Bahria Town, so that it’s located close to the Grand Masjid of Bahria Town, Karachi.

It’s 200 sq. yards. Villas, the constructed area is over 2,200 sq feet,
while the total price for a unit by Bahria town is Rs. 4.9 million.

 


If you want to Verify your NTN please subscribe to our YouTube Channel.

 

Click on the following link & Subscribe:

https://www.youtube.com/channel/UCWEgVt5Xf8ldDSFfV6ncm5w?sub_confirmation=1